گھروں میں کچھ ایسے ٹوٹکے بھی ہوتے ہیں جو بڑی بوڑھیوں سے جوان نسل میں منتقل ہوتے رہتے ہیں۔ یہ ٹوٹکے آزمائے ہوئے ہیں اور ان میں کئی ٹوٹکے ایسے ہیں جو آج بھی گھروں میں استعمال کیے جاتے ہیں۔
٭ بٹن لگاتے وقت اگر دھاگے پر موم لگالیا جائے اور بٹن لگا کر دھاگے کو گانٹھ دیا جائے تو بٹن مضبوط لگا رہتا ہے۔
٭ شیشے کی بوتل صاف کرنے کیلئے پسی ہوئی رائی بہتر ہے۔ایک بوتل میں ایک بڑا چمچہ رائی کا ڈال کر ٹھنڈا پانی ملادیں۔ آدھ گھنٹہ بعد بوتل کو ہلا کر صاف کر لیں۔
٭ نئی ریشمی جرابوں کو گرم پانی سے دھوکر استعمال کریں تو زیادہ پائیدار ثابت ہوتی ہیں۔ ایڑی پراندر کی جانب تھوڑا سا موم رگڑدیں تو ایڑیاں پھٹتی نہیں ہیں۔
٭ پیاز گوشت پگائیں توہانڈی کو بعد میں صاف کرنے کیلئے سرکہ اور گرم پانی ملا کر رکھیں۔ پھر صابن سے دھوئیں‘ہانڈی صاف ہوجائے گی۔
٭ لوہے کی کڑاہی‘لوہے کا توا دھونا ہو تو پانی میں سوڈا ملا کر دھوئیں /چیزیں اس سے صاف ہوجائیں گی۔
٭ اونی کپڑے پر چائے کا داغ ہو تو انڈے کی سفیدی اور گلیسرین داغ پر لگائیں۔ دس منٹ گرم پانی سے دھولیں‘داغ دور ہوجائیں گے۔
٭ دانت میں درد ہو تو لہسن چھیل کر اس کا ٹکڑا گرم کرکے درد والے دانت میں رکھ کر دبائیں درد دور ہوجائے گا۔
٭ ادرک کا ٹکڑا لے کر نمک لگائیں۔ دانت کے نیچے رکھیں‘درد دور ہوگا۔
٭ نیم کی مسواک روزکرنے کی عادت ڈالیں۔ دانت کو کیڑا نہیں لگے گا۔
بازار میں دوپٹہ اور سوٹ سنہری چھاپے کے مختلف رنگوں میں ملتے ہیں۔ ان کی اچھی خاصی قیمت ہوتی ہے۔ مگر یہ جلدی خراب ہوجاتے ہیں۔ ان کو سیاہی سے
بچانے کیلئے ایک طریقہ ہے۔ خاکی لفافے میں یہ دوپٹے رکھیں۔ ان کارنگ خراب نہیں ہوگا کیوں کہ چھاپے کی وجہ سے نمی بھی ہوجاتی ہے اور نمی میں یہ جلدی خراب ہوجاتے ہیں۔
ان پر آپ پرفیوم بھی نہ چھڑکیں‘نہ عطر لگائیں۔فینائل کی گولیاں بھی نہ ڈالیں۔موٹے خاکی لفافے میں تہہ کر رکھیں‘صحیح رہیں گے۔ استری کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی۔نمی والی جگہ پر نہ رکھیں۔
