گرمی کا موسم اور پیاس

گرمی کا موسم اور پیاس

 

گرمی کی شدت ہروقت پانی کی طلب بڑھاتی ہے اور بھوک مری جاتی ہے۔ ایسے میں کمزوری کئی گنا بڑھ جاتی ہے ایک توبے تحاشاپسینہ بہنے سے جسم کی نمکیات ضائع ہونے لگتی ہیں دوسرے کھاناکم کھانے سے کمزوری بڑھتی جاتی ہے یہاں کچھ ایسے ٹوٹکے پیش خدمت ہیں جو اس مسئلہ سے نمٹنے میں کام آسکتے ہیں۔

٭ بہت زیادہ پیاس کی شدت ہو تو اسپغول پانی میں بھگو کر اور ذراسی شکر ملا کر یہ پانی پئیں۔

٭ سوکھا ہو اآلو بخارا‘املی‘اناردانہ یا کوئی ٹافی چوسنے سے بھی پیاس میں کمی ہوتی  ہے۔

٭ چند دانے سوکھا ہوا آلو بخارااورتھوڑی سی املی رات کو پانی میں بھگودیں صبح اٹھ کر چھان کر چٹنی ملا کر پئیں۔ہاتھوں اور پیروں کی جلن پیاس اور کمزوری میں افاقہ ہوگا۔

٭ دوپہر کے کھانے میں سرکہ ملی پیاز‘لیموں‘سلاد‘دہی کااستعمال لازمی کریں۔

٭ سخت گرمیوں میں ہلکی پھلکی غذا کا استعمال کرنا چاہیے جیسے کھچڑی‘دلیہ‘ ساگودانہ‘پتلا شوربہ‘دہی‘سلاد‘کچی سبزیوں اور پھلوں کا استعمال زیادہ سے زیادہ کیجئے چاہے کھا کر یا رس نکال کر پئیں۔

٭ نمکول کو بھی اپنی غذامیں شامل رکھیں سکنجبین بھی اہم نمکول پینے سے جسم میں نمکیات کا تناسب برابر رہے گا۔

٭ گلوکوزیا کوئی بھی مشروب جب بھی پئیں تو اس میں ذرا سا نمک ضرور ڈال دیں۔

٭ بہت زیادہ تیل‘مرچ مسالے والی تلی ہوئی اشیاء نہ کھائیں بلکہ ابلی ہوئی سبزی رائتہ وغیرہ زیادہ مفید ہیں۔

٭ موسم گرما میں انار کے رس میں چارگنا پانی اور مناسب مقدار میں چینی ملا کر پینے سے جسم کی گرمی دور ہوتی ہے۔

٭ سیب کے ایک گلاس رس میں قدرے مصری ملا کر پینے سے بھوک بڑھتی ہے 

٭ خشک انگور یا منقیٰ میں پیاس کو روکنے کی حیرت انگیزطاقت ہوتی ہے گرمی کے علاوہ اگر مختلف امراض میں شدت کی پیاس لگی ہوتو منقیٰ چوسنے سے فائدہ ہو گا۔

٭ آم کھانے سے بھوک بڑھتی ہے۔

٭ موسمی پھل مثلاً تربوزاور خربوزہ وغیرہ بھی بھوک کم لگنے کے مسئلے سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

٭ کھیراککڑی یا سلادوغیرہ بھی غزائی کمزوری پر قابو پانے میں مدددیتے ہیں۔

٭ ہر وقت اے سی یا پنکھے کے نیچے بھی نہ بیٹھے رہیں بلک جسم کو پسینہ بھی آنے دیں۔ پسینہ آنا بھی ضروری ہے اس سے ہمار ے جسم کے کئی مسام کھلتے ہیں اور جسم کی ٹیونگ ہوتی ہے۔


ایک تبصرہ شائع کریں (0)
جدید تر اس سے پرانی