بچوں کی آنکھیں
٭ اگر آپ کے بچے باہر کھیلنے جائیں تو انہیں خاص طور پر کہیں کہ پروٹیکٹووئیر گلاسز کا استعمال کریں۔یعنی حفاظتی گلاسز تاکہ ان کی آنکھیں کسی بھی طرح کے مضر اثرات سے دور رہ سکیں۔
٭ بچوں کی آنکھوں میں کاجل اور سرمہ لازمی لگائیں اس سے بینائی تیز ہوتی ہے۔
٭ دو دن میں ایک بار ان کی آنکھوں میں عرق گلاس ضرور ڈالیں تاکہ ان کی آنکھیں صاف رہ سکیں۔
٭ بچوں کی نگہداشت بے حد ضروری ہے خاص طور پر وہ کیا کرتے ہیں اور کیا نہیں اس کا خیال ضرور رکھیں۔بچوں کو نہار منہ بادام کھلائیں اور اس کے علاوہ کالی مرچ بھی نہار منہ ایک دو دانے نگلنے کیلئے کہیں یہ بھی آنکھوں کی نظر تیز کرتی ہیں۔
٭ بادام کی گری‘کوزہ مصری‘سونف برابر مقدار میں لے کر پیس لیں اور رات کو سوتے وقت دودھ کے ساتھ کھانے سے آنکھیں ٹھیک ہوجائیں گی۔
٭ چھوٹی ہڑہڑکا مربہ رات کو سوتے وقت ودھ کے ساتھ کھائیں۔
٭ اگر آنکھوں میں کوئی چیزپڑ جائے تو خالص شہد کی ایک سلائی آنکھوں میں لگانے سے ٹھنڈک محسوس ہوگی اور درد بھی جاتا رہے گا۔
٭ گاجر کر مربہ‘کچی گاجرکھاناگاجر کا رس پینا آنکھوں کی بینائی تیزکرتا ہے۔
٭ آنکھوں کا ورم دورکرنے کیلئے آلوکے چھیلے ہوئے ٹکڑے آنکھوں پر رکھنے سے بہت سکون ملتا ہے اس دوران مالٹایا کیلا اور بیسن کے پکوڑے کھانا اور زیادہ پانی پینا بھی مفید ہے۔
٭ تازہ کھیرے کا رس دو چمچے اورعرق گلاب ایک چمچہ لے کر دونوں کو ملا لیں اور پھر انہیں ٹھنڈا کرکے آنکھوں کے پپوٹوں پر لگانے سے آنکھوں کے پپوٹوں کی سوجن دور ہوجاتی ہے۔
٭ ہر روزصبح اٹھ کر ٹھنڈے پانی کے چینٹے آنکھ میں مارنے اور سبزہ دیکھنے سے آنکھوں پر اچھا اثر پڑتا ہے۔
٭ آنکھیں دکھنے پر آئیں تو ٹھنڈے پانی کے چھینٹے ماریں اور ساتھ ہی ہونٹوں پر زبان پھیریں آنکھوں کی روشنی نہیں جاتی۔
اگر آپ کے بچے آنکھوں میں درد کی شکایت کریں یا کسی بھی طرح کی سرخی کی تو فوری طور پر انہیں ڈاکٹر کے پاس لے جائیں اور کسی اچھے آئی اسپیشلسٹ کو ضرور دکھائیں۔
سب سے زیادہ ضروری بات یہ ہے کہ اگر بالفرض آپ کے بچوں کی نظر کمزورہوجاتی ہے اور انہیں گلاسز پہننے پڑتے ہیں تو حتی الامکان کوشش کریں کہ اپنے بچوں کا مذاق نہ بننے دیں اور گھر میں بھی سب کو مذاق اڑانے سے منع کریں۔ اس سے ایک تو آپ کے بچے کا دل رکھتا ہے دوسرا وہ گلاسز پہننے سے بھی صاف انکار کردیتا ہے اور اس سے مسئلہ اور بڑھ جاتا ہے اس لیے ایسا کرنے اور ہونے سے روکنا آپ کا فرض ہے۔
بچوں کو مساج کرنے کیلئے طریقے اور احتیاطی تدبیریں
٭ مساج کرنے سے ضرورت کی تمام چیزیں مثلاً بے بی آئل‘ٹشوپیپرڈائیر۔ بچے کے صاف کپڑے‘تولیہ وغیرہ نکال کر اپنے پاس رکھ لیں۔
٭ چھوٹے بچوں کی جلد بہت نرم ونازک ہوتی ہے ذراسی بے احتیاطی ان کو نقصان پہنچانے کا سبب بن سکتی ہے چنانچہ احتیاط کا تقاضایہ ہے کہ اپنے ہاتھوں سے جیولری اتاردیں ناخن اگر ہیں تو انہیں تراش لیں۔
٭ بچے کو لٹانے کیلئے نرم تولیہ یا ریپنگ شیٹ کو ہموار جگہ پر بچھائیں تاکہ بچہ گرنے سے محفوظ رہے۔ بچے کے کپڑے اتار کر اسے سر کے بل سیدھا لٹائیں۔
٭ مساج کیلئے اپنی ہتھیلی پر پہلے تقریباً آدھا چائے کا چمچ آئل لیں۔ اسے اپنی ہتھیلیوں پر مل کر بچے کے جسم پر لگائیں۔مساج کے دوران آئل کی مقدارناکافی محسوس ہوتو مزید لے لیں۔
٭ دوران مساج بچے کو مصروف رکھنے کیلئے اس کے ہاتھ میں کوئی کھلونا دے دیں یا اس سے باتیں کرتی رہیں بچہ تنگ ہونے کے بجائے خوش دلی سے مساج کروائے گا۔
٭ مائیں اپنی انگلیوں اور ہتھیلیوں کی مددسے ہلکے ہلکے گولائی میں بچے کے سینے اور پیٹ کا مساج کریں کاندھوں پر بھی اسی انداز سے مساج کریں جبکہ ہاتھوں اور پیروں پر اوپر سے نیچے کی جانب مالش کریں پیٹھ کے حصے پر نیچے سے اوپر کی جانب مساج کرنا بہتر رہتا ہے۔
٭ مساج کے دوران بچوں کی ملائم جلد پر زور آزمائی سے گریز کریں۔ خاص طور پر ریڑھ کی ہڈی والے حصے پر کیوں ان کے اعضاء نازک ہوتے ہیں اور سخت ہاتھ ان کے اعضاء کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
٭ چھوٹے بچوں کو انگلیاں منہ میں ڈالنے کی عادت ہوتی ہے اکثر وہ ہاتھوں سے آنکھیں بھی ملتے ہیں لہٰذا ان حصوں پر آئل کا استعمال مت کریں۔
٭ عموماً شیر خواروں کی جلد پر ریشزپڑجاتے ہیں اور حفاظتی ٹیکے لگنے کا عمل بھی جاری ہوتا ہے لہٰذا ضروری ہے کہ مائیں ان متاثرہ حصوں پر مساج سے احتیاط برتیں۔
٭ جب مساج مکمل ہوجائے تو شیر خوار کو کپڑے پہنا کر صاف تولیہ میں لپیٹ لیں اور کاندھے سے لگائیں تولیہ کی گرماہٹ بچے کو پرسکون کردے گی۔
٭ ماؤں کو یہ بات دھیان میں رکھنی چاہیے کہ فیڈنگ سے پہلے اور فوراً بعد بچے کا مساج ہرگز نہ کریں۔درمیان میں وقفہ ضروردیں۔مساج شیر خوار کے جسمانی اعضاء کو چست اور مضبوط کرتا ہے چناں چہ مائیں یہ عمل چار سال کی عمرتک جاری رکھ سکتی ہیں۔
