گرمی کے موسم میں شربت جلدی بنانا ہو تو || پانی پینے کا صحیح طریقہ || ٹوٹکے

گرمی کے موسم میں شربت جلدی بنانا ہو تو || پانی پینے کا صحیح طریقہ || ٹوٹکے

گرمی کے موسم میں شربت جلدی بنانا ہو تو تین پاؤ چینی لے کر شربت کی خالی بوتل میں ڈال لیں۔تھوڑا سا پانی ڈالیں چینی گھل کر شیرہ بن جائے گی۔یہ بوتل احتیاط سے ڈھکن لگا کررکھیں۔جب مہمان ائیں تو آپ شربت یا سکویش فوراً بنا سکتے ہیں۔لیموں کے رس کے ٹکڑے جمے ہوئے فریزر سے نکال کر لیموں کا شربت تیار ہوسکتا ہے۔ اگر یہ شیرہ زیادہ دیر رکھنا چاہیں تو تھوڑا سا لیموں کا ست یا ٹاٹری ملادیں۔ ایک بوتل میں چٹکی بھرکافی ہے۔ 

پانی پینے کا صحیح طریقہ

بچے سکول سے آتے ہیں تو فریج سے بوتل نکالی اور غٹ عٹ کرکے پانی پینا شروع کردیا۔ اس سے تکلیف ہوجاتی ہے۔ بعض دفعہ پانی معدے میں جاتے ہی درد شروع کردتیا ہے۔ماؤں کو چاہیے بچوں کو اس طرح پانی نہ پینے دیں۔ پانی پیتے وقت بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھیں۔ تین سانسوں میں گھونٹ گھونٹ کرکے پانی پئیں۔ آخر میں الحمداللہ کہیں۔ 

اس طرح کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔ پانی یک بارگی پینے سے دل کی حرکت پر فوری اثر ہوتا ہے۔ پیاس بھڑکتی ہے۔گلے میں پھندہ لگ جاتا ہے۔

پانی کے گلاس میں پھونک بھی نہیں مارنی چاہیے۔کچھ بچے شربت یا دودھ بوتل پیتے وقت منہ سے گڑگڑاتے ہیں‘وہ طریقہ بھی ٹھیک نہیں۔ بچوں کو منع کریں بچے چھوٹے اور ناسمجھ ہوتے ہیں مائیں تو سمجھ دار ہوتی ہیں کسی بری پریشانی سے بچنے کیلئے تھوڑی سی توجہ فائدہ مند ہے۔

پانی کا برتن کھلا نہ رکھنا

پانی کے برتن کو ڈھانک کر رکھیں۔کچھ لوگ برتنوں میں پانی رکھتے ہیں‘مگر اس کے اوپر والے ڈھکنے کی احتیاط نہیں کرتے۔ پانی برتن میں ہو یا گھڑے میں‘ اس کو ڈھانک کر رکھیں تاکہ مٹی‘ گرد‘کیڑے اندر نہ گھس سکیں۔ پانی نکالنے والا برتن بھی صاف جگہ رکھنا چاہیے۔ ان چھوٹی چھوٹی باتوں سے صحت ٹھیک رہتی ہے‘نقصان بھی نہیں ہوتا۔ کھانے پینے کی چیروں کو ہمیشہ ڈھانکیں‘ مکھی بیٹھ نہ سکے۔ مکھی کے پروں میں جراثیم ہوتے ہیں اور یاد رکھیں کہ چھپکلی زہریلی ہوتی ہے‘وہ کھانے پر سے گزر جائے تو کھانا زہریلا ہوجاتا ہے۔

چٹخے ہوئے گلاس یا پیالے میں پانی 

گھر میں گلاس چٹخ جائے یا کانچ کے پیالے‘مگ کے کنارے ٹوٹ جائیں تو ان کو بالکل استعمال نہ کریں۔ مٹی اور دیسی چینی کے برتن بھی اسی زمرے میں آتے ہیں۔جدید تحقیق بھی یہی ہے۔ ان کناروں پر میل جم کر جراثیم جگہ بنا لیتے ہیں اور بیماری کا موجب بنتے ہیں۔ ایک تو ٹوٹی جگہ سے ہونٹ زخمی ہوسکتے ہیں‘دوسرے جراثیم پیٹ میں جاتے ہیں۔ یہی حکم حدیث مبارک میں بھی ہے کہ ٹوٹے برتن میں پانی نہ پیا اور کھانا بھی نہ کھایا جائے۔


ایک تبصرہ شائع کریں (0)
جدید تر اس سے پرانی